شدید غم و دکھ کو ختم کرنے کے لیے دعا

اور نہ ہی کوئی ہمیشہ غم میں رہتا ہے مختلف حالات ہوتے ہیں خوشی بھی آتی ہے غمی میں آتی ہے اور اگر کوئی ایسی کمی آئی ہے انسان کو ختم کرنے کے لیے اس پریشانی کے ازالے کے لیے آپ نے چار رکعت نماز نفل ادا کرنی ہے اور یہ چار رکعت نفل اکٹھے پڑھنے ہیں علیحدہ علیحدہ نہیں پڑھے یعنی کر دو دو رکعت نماز نفل ہوتی ہیں تو یہ چاروں رکعات ہیں پڑھنے ہیں پھر دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے ہیں اس طرح تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص پڑھنے ہیں سلام پھیرنے کے بعد پھر اسی طرح کے باہر بیٹھے ہوئے 41مرتبہ پڑھ کے اللہ سے اپنی مشکل کی دعا مانگنی ہے پھر آپ جو بھی پریشانی ہے جو بھی اجازت ہے اللہ آپ کو خوش رکھے اور یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بھی سکھائی جب وہ بھی مشکل میں ہوتے تو اللہ سے مانگتے اللہ پاک فوری مدد کے لئے فرشتے بھی دیتے ہیں تو کسی سے بھی ہماری مدد کروا سکتے ہیں یقین کی ہے یقین نہیں آتا ان چیزوں پر ایک صحابی کا واقعہ سناتا ہوں ایک انصاری صحابی ہیں ہیں ابو مالک تھے یہاں سے لے کر کے تجارت کیا کرتے تھے یہ عبادت گزار پرہیزگار تھے ایک مرتبہ انہوں نے سفر کیا تو انہوں نے ایک ڈاکو سے ان کا پالا پڑ گئی ڈاکو نے کہا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے تو وہ اردو میں قتل کرتا ہوں انصاری نے کہا کیا تم مجھے قتل نہیں کرنا چاہتا ہوں اگر تم سے مال چاہتے ہو تو یہ مال تمہارے پاس ہیں کہ مال لے لو ڈاکوؤں نے کہا کہ یہ مال تو اب میرا ہے میں تمہیں قتل بھی ضرور کروں گا تو ہی میرا جان سے مار ڈالوں گا وہ مالک انصاری پہلے اگر تم مجھے چھوڑ نہیں سکتے تو مجھے اتنی مہلت دے دو کہ میں چار رکعت نماز پڑھنا چاہو پڑھ لو انصاری نے وضو کیا اور چار رکعت نماز پڑھی نماز عید میں انہوں نے یہ دعا پڑھیں سنی کے حوالے سے پالا پڑا ہے اور اللہ کو کس نام سے پکارتے ہیں اے محبت کرنے والے کتنا بھی اس نے زندہ رہوں گا کسی کو اللہ کے بارے میں کرنے والے ایسے شاندار گھر کے مالک نے سب کچھ کرنے والے تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری عزت کا واسطہ دے کر جسے کوئی چھین نہیں سکتا تیری ماں مالکیت کا واسطہ جسے اور تیرے نور کا واسطہ دے کر جس سے تیرے عرش کے چاروں طرف بھن بھنا ہوا ہے ہوئے ہیں ان کو کہتے ہیں علی فریاد رسا تو میری مدد کر میری مدد فرما سننے والے تو میری مدد فرما دیں یہ دعا پڑھی اسی وقت ایک ہوں اس کے ہاتھ میں لے کے سر پر رکھے ہوئے تھا اس کی طرف دیکھ رہا ہے سوار فرانس کی طرف لپکا اور سندھ میں پرودیا کو مار ڈالا اس کے بعد سوانح ملک انصاری سے کہا کہ سر اٹھاؤ تو بولے کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہو جائے تم ہو کون آج تمہاری اللہ نے میری مدد فرمائی ہے اس وقت تم نے بارگاہ الہی میں دعا کی تو اس جوان آسمان کے دروازے کھول دیے تم نے دوسری مرتبہ دعا کی تو آسمان والوں میں کھلبلی مچ گئی ہے وہ کم ہوا ہے اور پھر تمھاری مدد کے لئے آ پہنچا وہ کہتے ہیں کہ جو شخص وضو کر کے چار رکعت نماز پڑھ لے اور یہ دعا بھی پڑھ لی تو اس کی دعا ضرور قبول ہوگی وہ ستم نہ ہو تو محبت میں پڑا ہوا ہو یا نہ ہو تو آخر میں اس تمام تر بات کا خلاصہ کیا ہے اس کے اچھے ناموں سے پکارو کی دعا کی جائے اور یہ آپ نے خود بھی حکم دیا ہے کہ قرآن کریم میں اسماء الحسنیٰ نہیں تھا کہیں سے نقل کرکے نہیں لائے تھے اور کہا بھی نہیں رکھا ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے سنا اور وہ دیکھ کر پڑھنے لگ جائیں یہ مشکل کے وقت اس کے دل کے الفاظ سے یہ اللہ سے ایک تعلق تھا ایک محبت کا تعلق اللہ سے حسن ظن تھا اور پورے درد کے ساتھ پکارا جب موت سر پر کھڑی ہو تو انسان کو پکارے گا اور پھر یہ بھی آپ کو معلوم ہے اس کے ساتھ پکارتے ہیں تو اللہ پاک آپ کی دعاؤں کو قبول کرتے ہیں آج ہمارے ملک میں ہیں دیکھنے کتنی پریشانی آئے گی کتنی مصیبت آئی ہوئی ہے اور اس کو دور کردے تو رحمان ہے رحیم ہے تو وہ ابہی طور تھے تو لوٹتے مالک بن انس کا معم صفحہ اور تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں اے میرے مالک ہم گناہگار ہیں ہمارا بال بال گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے اے پاک پروردگار ہم شرمندہ ہیں ہمیں پاک انجام سے واقف ہوتا ہے اے رب رحیم پر رحم فرما یا اللہ ہماری ٹوٹی ہوئی ہے یا اللہ تو اس بیماری سے ہماری حفاظت فرما یا اللہ اس کو ختم فرما یا اللہ رحم فرما یا اللہ ہمارے ہر اس فیصلے کو ہمارے لئے آسان کرتے جس کا انجام ہمارے لئے بہتر رہے ہیں اور ہر اس کام سے تو ہمیں دور رکھ سکیں جس کا انجام بہتر نہیں اور جو ہماری مشکلات میں یہ پاک پروردگار ہمارے لئے آسمان سے آسانی اور برکتیں نازل فرما اور ہر لمحے تمہارا حامی و ناصر ہو پروردگارِ پاکدامنی کا سوال کرتے ہیں اللہ پاک اپنے فضل و کرم اور رحمت سے ہمیں بچا ایسی محفل سے ایسے لوگوں سے بچا جو تیرے نافرمان ہو ہمیں محفوظ رکھے سی باتوں سے مجھ کو ناپسند ہو یا اللہ تو ہماری دعاؤں کو قبول فرما میرے مل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*