قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ کام ضرور کرنا

بہت بڑے ولی گزرے ہیں ایک مرتبہ آپ اپنے گھر کے دروازے پر تشریف فرما تھے کہ وہاں سے ایک جنازہ گزرا آپ بھی اٹھے اور اس کے پیچھے چل دیے جنازہ کے نیچے ایک چھوٹی سی بچی اور روتی ہوئی دوڑتی چلی جا رہی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ بابا جان آج مجھ پر وہ وقت آیا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں آیا حضرت سیدنا حسن و عشق بار دل بے قرار ہو گیا اور غمگین 93 بچے پر پھیرا اور فرمایا نہیں آرہی ہے عبرت کے لئے اس کے پیچھے پیچھے چل دیے قبرستان پہنچ کر منی اپنے والد مرحوم کی قبر سے لپٹ گئی حضرت سیدنا حسن بصری اک چھوٹی سی جھاڑی کے پیچھے چھپ گئے سارے مٹی پر رکھ کر رو رو کر کہنے لگی کے اندر گا چہرہ دوسری جانب پھیر دیا گیا ہے اے بابا جان آپ کو صاف ستھرا کفن پہنا کر دفن کیا گیا تھا کیا اب بھی وہ صاف ستھرا ہی ہے آپ کی ہر سال بدن کے ساتھ رکھا گیا تھا آیا ابھی جسم سے یا اس سے کیڑوں نے کھا لیا ہے کہ کسی آیت کی کفن کو جنتی کفن سے اور کسی کے کفن کو جہنم کی آگ کے کفن سے بدل دیا جاتا ہے تو آپ کا کفن آگ سے بدلہ کیا ہے کسی کو اس طرح ہوتی ہے جب ناک ہو کر اس قدر زور سے کھینچ لی ہے کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں آپ کو ماں کی طرح نرمی سے دبایا پھر پسنی توڑ ڈالی ہیں میں اتارا ہے تو وہ دونوں صورتوں میں پوچھتا ہے اگر وہ نیک ہیں تو اس بات پر پچھتاتا ہے کہ اس نے نیکیاں زیادہ کیوں نہ کی اور گناہ گار ہے تو اس کے گناہ کیوں نہ کیے تو آپ نے بتایا گناہوں پر دیتے تھے آج نصیب ہوں کہ قبر کے سرہانے پر کھڑے ہو کر پکار پکار رہی ہوں مگر مجھے آپ کے جواب نہیں سنائی دیتی تو مجھ سے قیامت تک اب دوبارہ نہیں مل سکتے ہیں خدائے رحمن قیامت کے میدان میں مجھے اپنے بابا جان اس سے محروم نہ کرنا حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ بن کر گذار ہوئی اور فرمایا اے میرے سردار آپ کی نصیحت آموز کلمات نے مجھے دیا ہے واپس لوٹ آئیں تو میرے دوستو میری بہن اور بھائی یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج آپ خود کو بھول گئے ہیں جس کے بارے میں سب سے پہلے ہم نے جانا ہے جس کو ہم بھول گئے ہیں تو میرے دوستو میری بہن کر رہا ہے موت کی طرف جا رہا ہے ہے چند گھنٹے نہیں گزار سکتے ہے ہے سہی دنیا کی ساری سہولیات کے اندر رکھی گئی ہو اس کے اندر کسی ایک بندے کو بند کر دیا جائے اور اس میں اس کو ساتھ ہی بتا دیا جائے کہ بس آج کے بعد تم یہاں سے نکل نہیں سکتے تم نے اپنی زندگی یہاں ہی گزاری ہے تو وہ گھبرا ہی مر جائے اور وہ جگہ جہاں سے نکل کے آئے ہم اپنے ہاتھوں کو دفناتے ہیں اور پھر جب میں وہاں جاؤں گا تو میرا کیا بنے گا اس کی فکر رہتی ہے اور دن میں کئی دفعہ سوچتا ہے انسان اور اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اللہ قبر کی سختی میں برداشت نہیں کر سکتا میرے مالک یا اللہ تو قبر کی سختی سے محفوظ رکھنا سختی سے محفوظ رکھنا طنز کے ساتھ ہیں میرے پیارے دوستو میری بہن اور میرے بھائی ہو جب ہم قبرستان جائیں تو ساتھ اللہ سے دعا مانگی کہ اے اللہ تو ہمارے پیاروں کو بھی قبر کے عذاب سے دور رکھنا اور قبرستان کا جب بھی چکر لگائیں تو وہ دیر کے لیے رکھ کر کے صرف فاتحہ پڑھ لیں اگر آپ ان کی قبروں پر پڑھیں گے کل کوئی آپ کی قبروں پر بھی آپ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان مبارک ہیں لوگوں کے جب بھی تمہارے کسی عزیز و اقارب کا انتقال ہو جائے یا اپنے والدین کی قبر پر جایا کرو تو مرحوم کی قبر پر بیٹھ کر اپنا سیدھا ہاتھ رکھ کر کے سورہ اخلاص اور سورہ فاتحہ ضرور پڑھا کرو تو کسی نے پوچھا کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر پر ہاتھ رکھ کر سورہ فاتحہ پڑھنے سے کیا ہوتا ہے کہ یاد رکھنا میں نے ہمیں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*